اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار معاریو نے اپنی ایک رپورٹ میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی "غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی" قرار دیا ہے، جس کا مقصد انتخابات کو مؤخر کرنا تھا۔ اخبار کے مطابق اس حملے سے اسرائیل کو کوئی عملی فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے نتیجے میں براہِ راست ردعمل سامنے آیا، جس میں شمالی مقبوضہ فلسطین پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا حملہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی صحافی اور کالم نگار دان بری نے معاریو میں شائع اپنے مضمون میں نیتن یاہو کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الضاحیہ پر حملوں کی بحالی ایک "حیران کن غیر ذمہ داری" ہے، جو پورے خطے کو ایک بار پھر خطرناک صورتحال سے دوچار کر رہی ہے، جبکہ اس سے کوئی واضح اسٹریٹجک یا سیاسی مقصد حاصل نہیں ہوا۔
مصنف نے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں الضاحیہ پر حملے کا کیا جواز ہے جب اسرائیل کو ایران کے مقابلے میں پہلے سے کہیں زیادہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ اس کے جواب میں براہِ راست ردعمل دیکھنے میں آیا، جن میں شمالی مقبوضہ علاقوں پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے حملے اور خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کا حقیقی خطرہ شامل ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکی صدر کھلے عام اس بحران کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔
لبنانی شہریوں کو نقصان حزب اللہ کے بیانیے کو مضبوط کرتا ہے
مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر لبنانی شہریوں یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کا حزب اللہ سے واضح تعلق ثابت نہ ہو تو اس سے حزب اللہ کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے اور وہ خود کو اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کا محافظ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ مصنف کے مطابق اسرائیلی حکام اس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔
اسرائیل امریکا کے بغیر وسیع جنگ جاری نہیں رکھ سکتا
معاریو نے زور دے کر لکھا کہ اسرائیل کی مکمل خودمختاری کا دعویٰ محض ایک وہم ہے، کیونکہ امریکی فضائی سپلائی، اسلحہ، اقوام متحدہ میں ویٹو اور یورپ و بین الاقوامی اداروں کے مقابلے میں سفارتی حمایت کے بغیر اسرائیل چند ہفتوں سے زیادہ کسی بڑی جنگ کو جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل خود کو ایسی صورتحال میں لے آیا ہے جہاں اسے ایران کے حملوں کے جواب میں بھی کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اپنانا پڑ رہی ہے، کیونکہ امریکی پشت پناہی کے بغیر وسیع جنگ جاری رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سیاسی مفادات ایک دوسرے کے برعکس
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اندرونِ ملک عوامی ناراضی، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور آئندہ وسط مدتی انتخابات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خطے میں طویل جنگ ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے، اسی لیے واشنگٹن کشیدگی میں کمی اور بحران کے باعزت خاتمے کا خواہاں ہے۔
اخبار نے لکھا کہ اس تناظر میں الضاحیہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اسرائیل کا اصرار امریکا اور اسرائیل کے درمیان مزید اختلافات اور دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
انتخابات مؤخر کرنے کے لیے کشیدگی بڑھانے کا خدشہ
رپورٹ کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے سیاسی منظرنامے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو مختلف سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ استحکام چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کو سیاسی میدان تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور انتخابی شکست کے امکانات پر بحث ہو رہی ہے۔
معاریو کے مطابق اسرائیلی عوام کا ایک بڑا طبقہ اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا کہ حکومت دانستہ طور پر کشیدگی میں اضافہ کر کے نئی ہنگامی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ انتخابات کو مؤخر کیا جا سکے۔ مصنف نے جنگی فیصلوں میں "ذاتی اور خارجی مفادات" کو شامل کرنے کے رجحان کو اسرائیلی تاریخ کا ایک "شرمناک زوال" قرار دیا ہے، جس کی مثال ماضی کی کسی حکومت میں نہیں ملتی۔
آپ کا تبصرہ